دائرے میں قید خواب

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں 


فل ٹائم 


ایک علامتی اور استعارتی چھوٹی فلم ہے جس نے روزمرہ زندگی کے بوجھ، فرض شناسی اور انسانی شوق کے درمیان کشمکش کو موضوع بنایا ہے۔

یہ فلم اس بات کی مِثال ہے کہ کیسے لوگ کبھی شعوری انتخاب کی وجہ سے، اور کبھی مجبوریوں و دباؤ کی وجہ سے، اپنے شوق قربان کر دیتے ہیں، اپنے پیاروں سے دور ہو جاتے ہیں، اور ایک ایسی زندگی میں گھِر جاتے ہیں جو اندر سے خالی ہو چکی ہوتی ہے۔

یہ فلم ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ زندگی صرف کمایا جانا نہیں، بلکہ "جینا" بھی ہے, اپنے شوقوں کے ساتھ، وقت کے احترام کے ساتھ، اور اِنسانی تعلقات کے ساتھ



مائیکل ایک عام مگر خوابوں سے لبریز نوجوان تھا۔ اس کے ہاتھ میں اسکیت بورڈ، کانوں میں موسیقی، اور دل میں آزادی کی تڑپ۔ وہ یقین رکھتا تھا کہ زندگی ایک کھلی سڑک ہے، جہاں رفتار اور جذبہ ہی اصل منزل ہیں۔ مگر جیسے ہی تعلیم ختم ہوئی، حقیقت نے اس کے خوابوں پر بندش لگا دی۔ 

ایک دن اسے ایک عجیب پیشکش ملی۔ ایک نامعلوم شخص نے کہا، "اگر تم روز ایک چوک میں کھڑے رہو، تو تمہیں وقت کے ساتھ پیسہ ملتا رہے گا۔" مائیکل نے سوچا، کیا  فرق پڑتا ہے؟ یہ بھی ایک تجربہ ہی سہی۔ اور یوں وہ چوک اس کی دنیا بن گیا۔

پہلے دن آسان لگے۔ موسیقی ساتھ تھی، خیالات آزاد تھے۔ مگر دنوں نے مہینوں کا روپ لیا، اور وہ چوک آہستہ آہستہ اس کا قیدخانہ بن گیا۔

اس کا اسکیت بورڈ پرانا ہو گیا، دوستوں نے آنا چھوڑ دیا، ماں کے فون کا جواب دینا کم ہو گیا۔ پیسہ بڑھتا گیا مگر مائیکل خود کم ہوتا گیا۔ اس کے چہرے پر وقت کی لکیر یں بننے لگیں، اور دل پر خالی پن کی۔

اس چوک کے اندر وہ صرف جسمانی طور پر قید نہ تھا، بلکہ روحانی طور پر بھی تھک چکا تھا۔ زندگی جو پہلے دوڑ تھی، اب ایک رکاؤٹ بن چکی تھی۔

یہ کہانی صرف مائیکل کی نہیں۔ یہ ہم سب کی کہانی ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی دائرے میں قید ہیں، نوکری کے، ذمہ داری کے، یا خوف کے۔ ہم جیتے ہیں مگر جینے کا لطف بھول جاتے ہیں۔ 

مگر یاد رکھو، بشتر لوگ  اس دائرے میں اپنی مرضی سے نہیں کھڑا ہوتے۔ کچھ لوگ صرف مجبوریوں کی وجہ سے وہاں ہیں،  بچوں کی تعلیم، گھر کا خرچ، یا وقت کی قید۔ 

 کوشش اور دعا ہونی چاہیے کہ اللہ ہمارے رزق کے سلسلہ کو ہمارے شوق سے جوڑ دے یا جو کر رہا ہوں اس میں شوق پیدا کر دے 

اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے زرق کا معاملہ ان کی شوق سے جڑا ہوا ہے .یا پھر جو وہ کر رہے ہیں ایسے انجوائے کر رہے ہیں۔


سیماب علی 

Comments

Popular posts from this blog

عنوان: انصاف کا سراب اور پردیسی کی خامشی

Eid Escapade: Journeying Through Jordan's Treasures

ایک الزام، ایک سزا